سعودی عرب نے عالمی پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک منفرد اور انقلابی اقدام اٹھایا ہے، جس میں عالمی سطح پر پانی کے شعبے میں تعاون کو مستحکم کرنے، جدید ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لانے اور پائیداری کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے نائب وزیرِ ماحولیات، پانی اور زراعت، عبداللہ زیز الشیبانی نے کہا کہ ویژن 2030 کے تحت پانی کی پائیداری کو قومی ترقی کا ایک اہم ستون قرار دیا گیا ہے، جس سے سعودی عرب کا عزم واضح ہوتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر پانی کے بحران کا مقابلہ کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرے گا۔
"ویلیو آف واٹر کمیونٹی” فورم میں، جو روم میں منعقد ہوا، سعودی عرب نے اپنی حکمت عملیوں کو اجاگر کیا اور پانی کے وسائل کے مؤثر انتظام کے لیے جدید ٹیکنالوجیز اور وسائل کی تقسیم کے جدید طریقے پیش کیے۔ الشیبانی نے نیشنل واٹر اسٹریٹیجی 2030 کا ذکر کیا جس میں متبادل پانی کے ذرائع کی ترقی، پانی کی نمکین بنانے (ڈیسیلی نیشن) کی ٹیکنالوجیز میں اضافہ، اور پانی کے ضیاع کو کم کرنے پر زور دیا گیا۔ سعودی عرب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی سطح پر تعاون کے ذریعے پانی کے بحران کا حل ممکن ہے، جیسے کہ جی 20 جیسے عالمی فورمز میں شرکت اور اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں پر کام کرنا۔
عالمی یومِ پانی کے موقع پر سعودی عرب کو دنیا کے سب سے بڑے پانی پیدا کرنے والے ملک کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کی مدد سے نمکین پانی کو میٹھا بنانے کے عمل میں جدت لائی جا رہی ہے۔ سعودی عرب نے پانی کی فراہمی کے لیے کھجور کے درختوں پر مبنی جدید ٹیکنالوجیز بھی تیار کی ہیں، جو نہ صرف پانی کی فراہمی کو بہتر بناتی ہیں بلکہ مٹی کے کٹاؤ کو بھی روکنے میں مددگار ہیں۔
سعودی واٹر اتھارٹی روزانہ تقریباً 15 ملین مکعب میٹر پانی پیدا کرتی ہے، جو 14,000 کلومیٹر پائپ لائنز اور 135,000 کلومیٹر نیٹ ورک کے ذریعے ملک بھر میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، کنگ سلمان ہیومینیٹری ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (کے ایس ریلیف) نے دنیا کے مختلف ممالک میں 105 پانی کے منصوبوں کے ذریعے 301 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس سے لاکھوں افراد کی زندگیوں میں بہتری آئی ہے۔ سعودی عرب کی امدادی کوششیں یمن، سوڈان، ملاوی، اور گھانا جیسے ممالک میں صاف پانی کی فراہمی، زراعت کی ترقی اور بیماریوں کے خاتمے میں اہم ثابت ہوئیں۔
سعودی عرب کا عالمی سطح پر پانی کی سکیورٹی کے لیے کیا جانے والا یہ عہد اس بات کا غماز ہے کہ وہ عالمی پانی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے، تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے صاف پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ یہ اقدامات سعودی عرب کی عالمی قیادت اور پائیداری کے عزم کو مزید مستحکم کرتے ہیں، اور دنیا کے لیے ایک روشن مثال قائم کرتے ہیں۔