امریکا نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے روس اور یوکرین کے درمیان بحیرہ اسود میں بحری آمد و رفت کی سلامتی کے حوالے سے مذاکرات کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ امریکا سعودی عرب میں ان اہم مذاکرات کے انعقاد میں قیادت اور مہمان نوازی کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا تہہ دل سے مشکور ہے۔
ریاض میں ہونے والے ان مذاکرات کے دوران امریکا نے روس اور یوکرین کے ساتھ علیحدہ علیحدہ معاہدے کیے تاکہ بحیرہ اسود کو محفوظ بنایا جا سکے، جو عالمی سطح پر زرعی اجناس کی تجارت کے لیے ایک نہایت اہم بحری راستہ ہے۔
یہ مذاکرات اس امید کے ساتھ منعقد کیے گئے کہ فریقین بنیادی امور پر اتفاق رائے پیدا کریں اور مستقبل میں تنازع کے وسیع تر حل کی راہ ہموار ہو سکے۔
واضح رہے کہ روس نے 2022 میں یوکرین پر حملہ کر کے اس کے بعض حصے اپنے زیر قبضہ کر لیے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی صورتحال برقرار ہے۔
اس دوران، یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ریاض میں ہونے والی بات چیت کو امن معاہدے کی جانب ابتدائی لیکن اہم قدم قرار دیا۔
روس کی جانب سے بھی ان مذاکرات کے حوالے سے بیان جاری کیا گیا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں واضح ضمانتیں درکار ہوں گی، اور ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے صرف کیف (یوکرین حکومت) سے کیے گئے معاہدے کافی نہیں ہوں گے۔
ہمیں ایسے ٹھوس اقدامات چاہییں جو واشنگٹن کی جانب سے صدر زیلنسکی اور ان کی ٹیم کو دی گئی ہدایات کا نتیجہ ہوں۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں منعقد ہوئے جب عالمی برادری یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہے اور خطے میں استحکام کے لیے عملی اقدامات پر زور دے رہی ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے ان مذاکرات کی میزبانی ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جو مشرق وسطیٰ سمیت عالمی امن و استحکام کے لیے ملک کے کردار کو مزید نمایاں کرتی ہے۔