متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، بالخصوص غزہ کے تنازع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بات چیت کی اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اماراتی صدر نے اس موقع پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کے دو ریاستی حل کی اہمیت پر زور دیا، جو کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا اور منصفانہ امن کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی برادری کو غزہ میں مستقل جنگ بندی کے قیام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہییں تاکہ بے گناہ شہریوں کو مزید جانی نقصان سے بچایا جا سکے۔
شیخ محمد بن زاید نے فلسطینی عوام کو انسانی امداد کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات انسانی بنیادوں پر امدادی کاموں میں ہر ممکن تعاون فراہم کر رہا ہے تاکہ جنگ سے متاثرہ افراد کی بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں اور انہیں فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر اماراتی قومی سلامتی کے مشیر کے حالیہ دورہ واشنگٹن کے نتائج پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس کے دوران کئی اہم معاہدے طے پائے۔
ان معاہدوں میں نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر غور کیا گیا بلکہ اقتصادی اور تجارتی روابط کو بھی مزید فروغ دینے کے لیے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے متحدہ عرب امارات کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقوں کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تعمیری مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔