سعودی عرب نے کرغیزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے سرحدی معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے، جو فرغانہ وادی کے طویل عرصے سے متنازع علاقے سے متعلق ہے، جو ماضی میں شدید خونریز جھڑپوں کا مرکز رہا ہے۔
یہ معاہدہ ان تینوں وسطی ایشیائی ممالک کے صدور— تاجکستان کے امام علی رحمان، ازبکستان کے شوکت میرزیایوف اور کرغیزستان کے سادیر جاپروف— کی جانب سے باضابطہ طور پر دستخط کر کے کیا گیا، جو ان کے ممالک کے درمیان واقع اس پہاڑی خطے میں سرحدی تنازعات کے حل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں، مملکت نے نہ صرف اس تاریخی معاہدے کا خیر مقدم کیا بلکہ تینوں ہمسایہ ممالک کو خو جند اعلامیہ برائے ابدی دوستی پر دستخط کرنے پر مبارکباد بھی دی، جو علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، سعودی عرب نے وسطی ایشیا کے لیے مستقل استحکام اور خوشحالی کی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
فرغانہ وادی، جو گنجان آبادی کا حامل ایک اہم علاقہ ہے، طویل عرصے سے علاقائی کشیدگی اور تنازعات کا مرکز رہی ہے، بالخصوص پانی کے حقوق کے معاملے پر، جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث تیزی سے کم ہو رہا ہے۔
حالیہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب وسطی ایشیائی ممالک اور یورپی یونین کے درمیان ایک اہم سربراہی اجلاس ازبکستان میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت اس وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت سابق سوویت ریاستیں، جو ماضی میں باہمی رقابتوں میں الجھی رہی ہیں، اب سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانے کی جانب گامزن ہیں۔
وسطی ایشیا میں بیشتر سرحدیں سوویت یونین کے دور میں غیر واضح طور پر کھینچی گئی تھیں، جس کے نتیجے میں کئی دہائیوں تک تنازعات برقرار رہے۔
تاہم، حالیہ برسوں میں، اس خطے کے ممالک نے باہمی مذاکرات کے ذریعے سرحدی مسائل کو حل کرنے کے لیے قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔
تازہ ترین معاہدہ مارچ کے وسط میں تاجکستان اور کرغیزستان کے درمیان ہونے والے ایک سرحدی معاہدے اور 2023 میں کرغیزستان اور ازبکستان کے مابین ہونے والے ایک اور معاہدے کا تسلسل ہے، جو پانی کی تقسیم، تجارتی روابط اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے طے پائے تھے۔
اس کے علاوہ، تاجکستان کے شہر خوجند میں ہونے والی اس ملاقات میں، تینوں صدور نے ایک مشترکہ بیان میں توانائی اور نقل و حمل کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اسی سلسلے میں، تاجکستان اور کرغیزستان کے صدور نے ایک نئی ہائی وولٹیج بجلی کی لائن کے ایک اہم حصے کا افتتاح کیا، جس کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک میں پیدا ہونے والی ہائیڈرو الیکٹرک توانائی کو پاکستان اور افغانستان تک پہنچایا جائے گا۔
سعودی عرب وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے دیرینہ سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور اس خطے میں استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ سال مئی 2024 میں، مملکت نے جی سی سی وسطی ایشیا سرمایہ کاری فورم کی میزبانی کی تھی، جو اس خطے میں اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کی واضح مثال ہے۔