وزارتِ سرمایہ کاری نے وضاحت کی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سعودی عرب میں جائیداد خریدنے اور فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم یہ اجازت مخصوص سرمایہ کاری سے متعلق مقاصد کے لیے ہی دی جاتی ہے۔
اس سلسلے میں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو وزارت سے اجازت حاصل کرنے کے لیے چند اہم شرائط پوری کرنی ہوں گی۔
ان شرائط میں سب سے اہم شرط یہ ہے کہ خریدی جانے والی جائیداد مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حدود سے باہر ہونی چاہیے۔
اس کے علاوہ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو جائیداد کی خرید و فروخت کے ذریعے محض تجارتی قیاس آرائی (commercial speculation) میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
تجارتی قیاس آرائی کا مطلب ایسی سرگرمیوں میں شامل ہونا ہے جہاں سرمایہ کار اسٹاک، اجناس، یا جائیداد جیسے اثاثے صرف اس توقع کے ساتھ خریدتے ہیں کہ ان کی قیمت میں اضافہ ہوگا اور وہ فوری منافع حاصل کر سکیں گے۔
ایسے کاروباری معاملات عموماً بہت زیادہ خطرے اور زیادہ منافع کی توقع پر مبنی ہوتے ہیں۔
مزید برآں، وزارت نے واضح کیا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمپنیوں کو جائیداد کے حصول کی اجازت کے لیے درخواست دینا ہوگی، خاص طور پر اگر وہ اس کا استعمال ذاتی رہائش، صنعتی تنصیبات کے دفاتر، کمپنیوں کے انتظامی دفاتر، ملازمین کے لیے رہائشی سہولیات، یا گوداموں کے قیام کے لیے کرنا چاہتے ہیں۔
ریل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے مزید سخت قوانین لاگو ہوں گے۔
ایسی کمپنیوں کو ایک تفصیلی انجینئرنگ رپورٹ پیش کرنا ہوگی جو سعودی کونسل آف انجینئرز کے ذریعہ تسلیم شدہ کسی معتبر انجینئرنگ آفس سے حاصل کی گئی ہو۔
اس رپورٹ میں جائیداد کی مکمل لاگت کو واضح کیا جانا ضروری ہے، اور یہ لاگت کم از کم 30 ملین سعودی ریال ہونی چاہیے، جو زمین کی خریداری اور تعمیر دونوں پر لاگو ہوگی۔
مزید یہ کہ، جائیداد کی لوکیشن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حدود سے باہر ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ، کمپنی کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ خریدی گئی زمین کو پانچ سال کے اندر استعمال میں لائے گی۔
طریقہ کار کے لحاظ سے، وزارت نے تصدیق کی ہے کہ اس خدمت کے لیے کوئی مالی فیس نہیں لی جائے گی۔
سرمایہ کار وزارت کی ای-سروسز پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں، اور درخواست پر کارروائی پانچ کاروباری دنوں میں مکمل کر دی جائے گی۔
درخواست جمع کروانے کے لیے، سرمایہ کاروں کو بعض ضروری دستاویزات فراہم کرنی ہوں گی، جن میں شامل ہیں: بلدیہ کا عمارت کا اجازت نامہ، بلدیہ کی طرف سے جاری کردہ منظوری کا خط، یا کسی مستند اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان، جس میں زمین کے متوقع استعمال کی وضاحت دی گئی ہو۔
اس کے علاوہ، وہ جائیداد جسے خریدا جا رہا ہے، اس کی دستاویز (deed) کی کاپی بھی جمع کروانی ہوگی۔