ریاض/اسلام آباد: حج سیزن کی آمد کے ساتھ ہی سعودی عرب نے اہم فیصلہ لیتے ہوئے پاکستان سمیت 14 ممالک کے شہریوں پر عمرہ، بزنس اور فیملی ویزوں کے تحت داخلے پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد حج انتظامات کو بہتر، منظم اور محفوظ بنانا بتایا جا رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق سعودی حکومت نے اس فیصلے سے پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ پاکستانی عمرہ ویزا ہولڈرز کو 29 اپریل تک وطن واپسی کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ عمرہ ویزا رکھنے والے زائرین 13 اپریل تک سعودی عرب میں داخل ہو سکیں گے۔
پابندی کی زد میں آنے والے دیگر ممالک میں بھارت، بنگلا دیش، مصر، انڈونیشیا، عراق، نائیجیریا، اردن، الجزائر، سوڈان، ایتھوپیا، تیونس اور یمن شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں عارضی نوعیت کی ہیں اور امکان ہے کہ جون کے وسط تک ختم کر دی جائیں گی۔
اہم انتباہ: پابندی کے باوجود سعودی عرب میں قیام کرنے والوں کو پانچ سال تک دوبارہ داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جو کہ نہایت سخت اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ فیصلہ لاکھوں افراد کو متاثر کرے گا، خاص طور پر وہ پاکستانی جو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے خواہاں تھے یا اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
یہ ایک وقتی قدم ہے، مگر اثرات دیرپا ہو سکتے ہیں،شہریوں سے درخواست ہے کہ مقررہ تاریخوں اور ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ مستقبل کی سفری سہولتیں متاثر نہ ہوں۔