اسلام آباد: پاکستان نے توانائی کے شعبے میں ایک اہم حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے فی الحال ایل این جی اسپاٹ کارگوز کی خریداری نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان کو Qatar سے مزید سستی ایل این جی ملنے کی توقع ہے، جس کے باعث پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے عالمی مارکیٹ سے موصول ہونے والی کم ترین بولیاں بھی مسترد کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق Pakistan LNG Limited نے عالمی توانائی کمپنیوں بی پی سنگاپور اور ٹوٹل انرجیز کی جانب سے دی گئی کم ترین بولیوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت مہنگی اسپاٹ مارکیٹ کے بجائے طویل مدتی اور نسبتاً کم لاگت معاہدوں کو ترجیح دے رہا ہے تاکہ توانائی درآمدات پر آنے والے اخراجات کو کم کیا جا سکے۔
توانائی شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق پاکستان کو قطر سے دو ایل این جی کارگوز طویل مدتی معاہدے کے تحت ملنے کی توقع ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ کارگوز ’’ٹرم کنٹریکٹ‘‘ ریٹ پر فراہم کیے جا سکتے ہیں، جو موجودہ عالمی اسپاٹ مارکیٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستے ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق قطر سے ایل این جی کی قیمت برینٹ خام تیل کی قیمت کے 13.37 فیصد کے حساب سے مقرر ہونے کا امکان ہے، جبکہ قطری حکام کی جانب سے کارگوز کی دستیابی کے مثبت اشارے بھی موصول ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق ممکنہ قطری ایل این جی کارگوز Strait of Hormuz کے راستے پاکستان پہنچائے جائیں گے۔ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، تاہم پاکستان سستی اور محفوظ سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے متبادل حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت توانائی لاگت میں کمی اور صنعتی شعبے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سستی درآمدی گیس کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت اسپاٹ مارکیٹ سے فوری خریداری کے بجائے طویل المدتی معاہدوں کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر پاکستان قطر سے سستی ایل این جی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف ملکی توانائی بحران میں کمی آئے گی بلکہ بجلی کی پیداواری لاگت اور درآمدی بل پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
