عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث توانائی کی عالمی مارکیٹ میں نئی بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ مارکیٹ رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر 93 ڈالر 50 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل تقریباً 90 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ اسی طرح مربن خام تیل کی قیمت بھی 90 ڈالر فی بیرل کی سطح پر برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر رسد اور طلب کے خدشات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔ دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے کے حوالے سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہ آنے کے باوجود ایشیائی مالیاتی منڈیوں میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر مثبت رجحان دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کا KOSPI انڈیکس اور جاپان کا Nikkei 225 گزشتہ ہفتے کے مضبوط اضافے کے بعد آج بھی مثبت زون میں ٹریڈ کر رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہونے اور عالمی معیشت کے حوالے سے امید افزا اشاروں نے ایشیائی مارکیٹوں میں خریداری کے رجحان کو تقویت دی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کو توانائی کے بل میں اضافے اور معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب تیل برآمد کرنے والے ممالک کے لیے قیمتوں میں یہ اضافہ آمدنی بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔
