مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور امریکا کے درمیان جاری تناؤ اور آبنائے ہرمز میں عالمی بحری تجارت کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر برطانیہ نے اپنا جدید جنگی بحری جہاز “ایچ ایم ایس ڈریگن” خطے میں تعینات کر دیا ہے۔ اس اقدام کو خطے میں مغربی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمی اور اہم بحری راستوں کے تحفظ کی نئی حکمتِ عملی قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطانیہ کی جانب سے اس جدید فضائی دفاعی ڈسٹرائر کی تعیناتی کا بنیادی مقصد عالمی تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی یقینی بنانا، آبنائے ہرمز میں ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنا اور مستقبل میں برطانیہ و فرانس کی مشترکہ قیادت میں ایک کثیرالملکی بحری مشن کی راہ ہموار کرنا ہے۔
HMS Dragon برطانوی بحریہ کا جدید ترین جنگی جہاز تصور کیا جاتا ہے، جو جدید ریڈار سسٹمز، فضائی دفاعی میزائلوں اور دشمن کے حملوں کو روکنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے قبل مارچ میں اسے قبرص کے دفاع اور مشرقی بحیرہ روم میں نگرانی کے لیے تعینات کیا گیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں اس کی خلیجی پانیوں میں موجودگی کو ایک اہم عسکری پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق فرانس پہلے ہی اپنا بحری اسٹرائیک گروپ جنوبی بحیرۂ احمر میں روانہ کر چکا ہے، جبکہ دونوں یورپی ممالک عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ، تیل کی ترسیل کو محفوظ بنانے اور بین الاقوامی بحری اعتماد کی بحالی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر کام کر رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ کسی بھی عسکری تصادم یا بحری رکاوٹ کی صورت میں نہ صرف عالمی معیشت بلکہ تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ممکنہ سفارتی پیش رفت اور تناؤ میں کمی کے اشارے بھی مل رہے ہیں، تاہم مغربی ممالک کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی عسکری تیاریوں کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔
مجوزہ بحری منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری نقل و حرکت کے لیے علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے، تاہم برطانیہ کو اپنی محدود بحری صلاحیتوں، بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات اور خطے میں طویل المدتی عسکری موجودگی جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
