امریکی نائب صدر جےڈی وینس نےکہاہےکہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم حتمی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا ایران امریکی شرائط کو قبول کرتا ہے یا نہیں۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ مذاکرات اس حد تک آگے بڑھتے ہیں یا نہیں جہاں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرر کردہ “ریڈ لائن” کو مطمئن کر سکیں۔
جے ڈی وینس کے مطابق صدر ٹرمپ کا مؤقف بالکل واضح اور سادہ ہے۔ امریکا ایسے ٹھوس اقدامات چاہتا ہے جن کے ذریعے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایران کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار تیار نہ کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے، لیکن قومی سلامتی اور مشرق وسطیٰ کے استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اتحادی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
امریکی نائب صدر کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان پسِ پردہ سفارتی رابطوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز، اقتصادی پابندیوں اور جنگ بندی سے متعلق معاملات بھی عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جے ڈی وینس کا بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن بیک وقت دباؤ اور سفارت کاری دونوں راستوں پر عمل پیرا ہے تاکہ خطے میں ممکنہ بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔
