مارکو روبیو چین میں داخلے پر پابندی کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ دو روزہ دورے پر بیجنگ پہنچ گئے، جہاں ان کے دورے کو ممکن بنانے کیلئے ایک غیر معمولی سفارتی طریقہ اختیار کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق چین نے مارکو روبیو کے داخلے کیلئے خصوصی سفارتی پروٹوکول استعمال کیا۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چینی حکام نے سرکاری دستاویزات میں ان کا نام تبدیل کرکے “مارکو لو” درج کیا، جس کے بعد انہیں چین میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد یہ تھا کہ چین کی جانب سے عائد پابندیاں باضابطہ طور پر اپنی جگہ برقرار رہیں، جبکہ دوسری طرف امریکی وفد کے اہم رکن کی حیثیت سے روبیو کا دورہ بھی ممکن بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اس تبدیلی پر کام اس وقت شروع کر دیا گیا تھا جب مارکو روبیو کو امریکی وزیر خارجہ بنائے جانے کا امکان پیدا ہوا تھا۔
واضح رہے کہ چین نے 2020 میں مارکو روبیو پر دو مرتبہ پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس وقت وہ امریکی سینیٹر تھے اور انہوں نے ہانگ کانگ میں کریک ڈاؤن اور اویغور مسلمانوں کے معاملے پر چین پر شدید تنقید کی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ عالمی سفارت کاری میں لچکدار پروٹوکول اور سیاسی ضرورتوں کی ایک دلچسپ مثال ہے، جہاں دونوں ممالک نے اپنے اپنے مؤقف برقرار رکھتے ہوئے اعلیٰ سطحی رابطے بھی جاری رکھے۔
ادھر مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے دورۂ چین کے دوران ایران، عالمی تجارت، ٹیرف، آبنائے ہرمز اور خطے کی کشیدہ صورتحال جیسے اہم معاملات پر بھی تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔
