کراچی کے نیشنل بینک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پی ایس ایل 11 کے ایک میچ کے دوران اس وقت گرما گرمی پیدا ہوگئی جب راولپنڈی کے فاسٹ بولر محمد عامر اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے آل راؤنڈر فہیم اشرف کے درمیان میدان میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ یہ واقعہ میچ کے ایک اہم مرحلے پر پیش آیا اور کچھ دیر کے لیے ماحول خاصا کشیدہ ہوگیا۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب اسلام آباد کی اننگز کے سترہویں اوور میں تیسری گیند پر محمد عامر نے ایک تیز مگر سست باؤنسر کرایا، جس پر فہیم اشرف نے جارحانہ شاٹ کھیلنے کی کوشش کی۔ وہ گیند کو اونچا کھیلنے کے چکر میں وکٹ کیپر محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ آؤٹ ہونے کے بعد ہی میدان میں ماحول بدل گیا اور جشن کے ساتھ ساتھ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان تلخی بھی شروع ہوگئی۔
آؤٹ کے فوراً بعد محمد عامر نے پرجوش انداز میں فہیم اشرف کی جانب اشارے کیے اور انہیں پویلین واپس جانے کا اشارہ دیا۔ اس پر فہیم اشرف بھی جذباتی ہوگئے اور غصے میں عامر کی طرف بڑھتے ہوئے بلے سے اشارہ کیا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان تلخ کلامی بڑھتی ہی جا رہی تھی کہ اسی دوران میدان میں موجود دیگر کھلاڑیوں نے مداخلت کی۔
اس موقع پر اسد آفریدی اور سعد مسعود فوری طور پر آگے آئے اور دونوں کھلاڑیوں کو الگ کیا، جس کے بعد معاملہ کسی بڑے تنازع میں تبدیل ہونے سے بچ گیا۔ کچھ دیر بعد صورتحال معمول پر آ گئی اور کھیل دوبارہ شروع ہو سکا۔
اگرچہ یہ واقعہ مختصر تھا، لیکن اس کے باوجود میچ کے دوران تناؤ کا عنصر واضح رہا۔ اس سے قبل راولپنڈی نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اسلام آباد یونائیٹڈ کی بیٹنگ شروع میں ہی مشکلات کا شکار نظر آئی۔ اوپنرز ڈیوون کونوے اور سمیر منہاس بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور رنز بنانے کی رفتار انتہائی سست رہی۔
راولپنڈی کو پہلی کامیابی پانچویں اوور کی دوسری گیند پر محمد عامر نے دلائی جب انہوں نے سمیر منہاس کو صرف چھ رنز پر آؤٹ کیا۔ اس کے ساتھ ہی 20 رنز کی اوپننگ شراکت ختم ہوگئی۔ اس کے بعد نسیم شاہ نے پاور پلے میں مزید دباؤ بڑھاتے ہوئے محمد فائق کو صرف پانچ رنز پر آؤٹ کیا، جس کے بعد اسکور 29 رنز پر دو وکٹ ہوگیا۔
بعد میں سعد مسعود نے شاداب خان کو صرف ایک رن پر آؤٹ کر کے اسلام آباد کو مزید مشکلات میں ڈال دیا اور ٹیم 30 رنز پر تین وکٹوں کے ساتھ دباؤ میں آ گئی۔
تاہم کونوے اور مارک چیپمین نے کچھ مزاحمت دکھائی اور اسکور کو سنبھالا دیتے ہوئے ایک اہم شراکت قائم کی، جس کی بدولت ٹیم 50 رنز سے آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئی۔ لیکن یہ شراکت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی اور ڈیرل مچل نے کونوے کو 40 رنز پر آؤٹ کر کے ٹیم کو بڑا دھچکا دیا۔
اس کے بعد وکٹیں مسلسل گرتی رہیں۔ اسد آفریدی نے چیپمین کو 23 رنز پر آؤٹ کیا جبکہ حیدر علی بھی صرف 6 رنز بنا سکے۔ اسی دوران محمد عامر نے دوبارہ اہم وکٹ لیتے ہوئے فہیم اشرف کو 11 رنز پر پویلین بھیج دیا۔
آخر میں کریس گرین نے کچھ مزاحمت کی اور 29 رنز کی تیز اننگز کھیلی، لیکن وہ بھی رن آؤٹ ہوگئے۔ ان کی کوشش کے باوجود اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم 20 اوورز میں صرف 137 رنز بنا سکی۔
اننگز کے آخری لمحات میں ڈائن فاریسٹر نے مزید دو وکٹیں حاصل کیں اور اسلام آباد کی بیٹنگ کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ مجموعی طور پر راولپنڈی کے بولرز نے نپی تلی اور مسلسل دباؤ والی بولنگ کے ذریعے حریف ٹیم کو بڑا اسکور بنانے سے روک دیا۔
