پاکستان سپر لیگ کے دسویں ایڈیشن کے کوالیفائر میں پشاور زلمی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 70 رنز سے شکست دے دی اور یوں ریکارڈ پانچویں مرتبہ فائنل تک رسائی حاصل کر لی۔ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس اہم مقابلے میں زلمی نے ہر شعبے میں برتری دکھائی اور آغاز سے اختتام تک کھیل پر گرفت برقرار رکھی۔
میچ کا آغاز اسلام آباد یونائیٹڈ کے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کے فیصلے سے ہوا، تاہم یہ حکمت عملی زیادہ مؤثر ثابت نہ ہو سکی کیونکہ زلمی کے اوپنرز نے ابتدا ہی سے جارحانہ انداز اپنایا۔ کپتان بابر اعظم نے ایک بار پھر ذمہ دارانہ اور دلکش بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کی قیادت فرنٹ سے کی، جبکہ محمد حارث نے تیز رفتار اننگز کھیل کر ابتدائی دباؤ حریف ٹیم پر ڈال دیا۔
دونوں اوپنرز نے پاور پلے کے دوران تیزی سے رنز بناتے ہوئے ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ ابتدائی اوورز میں ہی اسکور تیزی سے آگے بڑھا اور اسلام آباد کے باؤلرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ محمد حارث نے مختصر مگر جارحانہ اننگز کھیلی اور صرف 16 گیندوں پر 35 رنز بنائے، تاہم وہ ایک بڑے شاٹ کی کوشش میں کیچ دے بیٹھے اور یوں پہلی وکٹ گر گئی۔
حارث کے آؤٹ ہونے کے بعد بابر اعظم نے اننگز کو سنبھالے رکھا اور کوشل مینڈس کے ساتھ مل کر ایک اہم شراکت قائم کی۔ دونوں بلے بازوں نے نہایت سمجھداری سے بیٹنگ کرتے ہوئے اسکور کو آگے بڑھایا اور وقتاً فوقتاً باؤنڈریز بھی حاصل کیں۔ اس جوڑی نے دوسری وکٹ کے لیے 84 رنز کا اضافہ کیا جس نے ٹیم کو ایک بڑے مجموعے کی جانب گامزن کر دیا۔
کوشل مینڈس نے بھی عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 26 گیندوں پر 41 رنز بنائے جس میں خوبصورت اسٹروکس شامل تھے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد بابر اعظم نے مزید تیزی دکھائی اور اپنی اننگز کو اگلے مرحلے میں داخل کیا۔ انہوں نے پہلے 38 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی اور اس کے بعد جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے اگلے 50 رنز صرف 19 گیندوں پر بنا ڈالے۔
بابر اعظم نے 59 گیندوں پر 103 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس میں 12 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔ ان کی یہ اننگز نہ صرف میچ کا رخ بدلنے میں فیصلہ کن ثابت ہوئی بلکہ انہیں ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں بھی سرفہرست لے آئی۔
اگرچہ آخری اوورز میں زلمی کو چند وکٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا، تاہم مضبوط بنیاد کے باعث ٹیم 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 221 رنز کا بڑا مجموعہ بنانے میں کامیاب رہی۔
اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے کپتان شاداب خان نمایاں باؤلر رہے جنہوں نے 42 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ رچرڈ گلیسن نے بھی 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، لیکن مجموعی طور پر باؤلنگ لائن اپ زلمی کے بلے بازوں کو روکنے میں ناکام رہی۔
ہدف کے تعاقب میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ابتدا مثبت انداز میں کی۔ اوپنرز ڈیون کونوے اور سمیر منہاس نے تیزی سے رنز بناتے ہوئے ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا اور ابتدائی پانچ اوورز میں 58 رنز جوڑ لیے۔ تاہم یہ رفتار زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔
ڈیون کونوے، جو 14 گیندوں پر 20 رنز بنا چکے تھے، مائیکل بریسویل کی گیند پر آؤٹ ہو گئے، جس کے بعد ٹیم کی رفتار متاثر ہوئی۔ ابتدائی شراکت کے باوجود بعد میں وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں اور بڑھتے ہوئے رن ریٹ نے اسلام آباد یونائیٹڈ پر دباؤ مزید بڑھا دیا۔
زلمی کے باؤلرز نے منظم اور مؤثر باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف ٹیم کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ نتیجتاً اسلام آباد یونائیٹڈ مطلوبہ ہدف کے قریب بھی نہ پہنچ سکی اور پشاور زلمی نے با آسانی میچ اپنے نام کر لیا۔
یہ فتح پشاور زلمی کے لیے نہایت اہم ثابت ہوئی کیونکہ اس کے ساتھ ہی وہ ایک بار پھر فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئی، جو ٹیم کی مستقل مزاجی اور مضبوط کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔
