بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے لبنان میں ایک اہم کارروائی کے دوران حزب اللہ کی رضوان فورس کے ایک اعلیٰ کمانڈر کو ہدف بنا کر قتل کر دیا ہے، جسے حالیہ مہینوں میں اسرائیل کی ایک بڑی عسکری کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق یہ کارروائی بیروت کے مضافاتی علاقے میں کی گئی، جہاں اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک حساس مقام کو نشانہ بنایا۔ حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ شہید ہونے والے کمانڈر کا نام “مالک بلوط” تھا، جو رضوان فورس کے عملیاتی امور کے اہم ذمہ دار سمجھے جاتے تھے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فضائی حملہ بیروت کے نواحی علاقے غبیری میں کیا گیا، جو حزب اللہ کا اہم گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ حملے کے بعد علاقے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے جبکہ شدید خوف و ہراس بھی پھیل گیا۔
یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں بظاہر جنگ بندی نافذ ہے اور امریکا کی جانب سے ایران اور لبنان کے محاذ پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم اسرائیل کی تازہ کارروائی نے جنگ بندی کے مستقبل پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کو درپیش خطرات کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔ دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے فوری طور پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل گزشتہ کئی برسوں سے خطے میں ٹارگٹ کارروائیوں کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت مختلف ممالک میں اپنے مخالفین کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران اور لبنان میں اسرائیلی حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری کشیدگی میں رواں برس مارچ کے آغاز سے شدت آئی تھی، جبکہ اپریل میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، مگر زمینی صورتحال اب بھی غیر یقینی اور خطرناک دکھائی دے رہی ہے۔
