ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں جاری جنگی ماحول کے بعد ایران کی سیاسی قیادت بھی متحرک ہو گئی ہے، اور اسی تناظر میں ایرانی پارلیمنٹ کا ایک انتہائی اہم اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب پورا مشرقِ وسطیٰ غیر یقینی صورتحال، عسکری خطرات اور سفارتی دباؤ کی لپیٹ میں ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے ترجمان کے مطابق اجلاس اتوار کے روز منعقد ہوگا جس میں ملک کی موجودہ سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اجلاس میں جنگی حالات، امریکی دباؤ، اسرائیلی خطرات اور خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال پر اہم مشاورت کی جائے گی۔
ترجمان نے بتایا کہ موجودہ سیکیورٹی خدشات اور حساس حالات کے پیشِ نظر پارلیمنٹ کا اجلاس روایتی انداز میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد کرنے کے بجائے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہوگا تاکہ تمام اراکین محفوظ ماحول میں شریک ہو کر اپنی تجاویز اور آراء پیش کر سکیں۔
اجلاس میں خاص طور پر جنگ کے باعث ایران کی معیشت پر پڑنے والے اثرات، مالی دباؤ، تیل کی برآمدات، بین الاقوامی پابندیوں، کرنسی کی صورتحال اور عوامی خدشات پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی حکومت جنگی ماحول کے دوران معاشی استحکام برقرار رکھنے اور عوامی اعتماد بحال رکھنے کے لیے نئی حکمتِ عملی پر غور کر رہی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کا آخری عوامی اجلاس 16 فروری کو منعقد ہوا تھا، اور اس کے بعد پہلی مرتبہ اتنے حساس اور غیرمعمولی حالات میں قانون ساز ادارہ دوبارہ متحرک ہو رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اجلاس صرف داخلی صورتحال تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایران کی آئندہ خارجہ پالیسی، دفاعی حکمتِ عملی اور ممکنہ سفارتی اقدامات کے حوالے سے بھی اہم فیصلوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران میں ہونے والا یہ اجلاس اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ایران خطے میں بدلتی صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں مستقبل کے ممکنہ اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
