اسلام آباد: ایران جنگ کے باوجود پاکستانی روپے نے غیر متوقع مضبوطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری ریکارڈ کر لی ہے، جسے ماہرین معاشی حلقوں میں ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فروری کے اختتام سے اب تک روپے کی قدر میں تقریباً 0.3 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور یہ 279.47 روپے فی ڈالر سے بہتر ہو کر 278.77 روپے فی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
عالمی و علاقائی کشیدگی، خصوصاً ایران سے جڑی جنگی صورتحال کے باوجود روپے کا مستحکم رہنا معاشی ماہرین کے لیے حیران کن ہے۔ عرب نیوز کے مطابق اس استحکام کی بنیادی وجوہات میں سعودی عرب سے ملنے والی مالی معاونت، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی ترسیلاتِ زر اور دیگر بیرونی فنڈنگ شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے نئے ڈپازٹس حاصل ہوئے جبکہ 5 ارب ڈالر کی سابقہ مالی معاونت کی مدت میں توسیع بھی کی گئی۔ اس کے علاوہ 750 ملین ڈالر یورو بانڈ کے اجرا کے ذریعے بھی حاصل کیے گئے، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت ملی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مالی وسائل نے نہ صرف مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دی بلکہ توانائی درآمدات کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور خلیجی سمندری راستوں سے متعلق خدشات کو بھی کسی حد تک قابو میں رکھا۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت 21.3 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ ترسیلاتِ زر میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیرونی مالی معاونت اور ترسیلاتِ زر کا یہ سلسلہ برقرار نہ رہا اور ضروری معاشی اصلاحات نہ کی گئیں تو روپے کی موجودہ مضبوطی عارضی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود موجودہ صورتحال میں پاکستانی کرنسی نے توقعات سے بہتر کارکردگی دکھا کر معاشی استحکام کی ایک جھلک ضرور پیش کی ہے
