لبنان میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی فوج نے نہ صرف جنوبی علاقوں بلکہ دارالحکومت بیروت کے قریب ایک اہم شاہراہ کو بھی نشانہ بنایا، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے اسرائیل اور لبنان کے درمیان تقریباً تین ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد اب تک کے شدید ترین حملوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ متعدد علاقوں میں زور دار دھماکوں اور فضائی حملوں کی اطلاعات کے بعد شہریوں میں شدید بے چینی پیدا ہو گئی ہے، جبکہ کئی خاندان محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے نو دیہاتوں کے مکینوں کو فوری طور پر علاقے خالی کرنے کی وارننگ بھی جاری کر دی ہے، جسے ممکنہ بڑے فوجی آپریشن کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اسرائیل حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے مسلسل حملوں کے جواب میں شمالی اسرائیل میں فوجی اہداف کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ حزب اللہ کے مطابق یہ کارروائیاں “دفاعی ردعمل” کے طور پر کی گئی ہیں اور اسرائیلی جارحیت جاری رہی تو حملوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ بظاہر جنگ بندی برقرار ہے، لیکن زمینی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔ مسلسل فضائی حملے، سرحدی جھڑپیں اور ڈرون کارروائیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ خطہ ایک بار پھر وسیع تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جا سکتے ہیں
