محسن رضائی نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر کسی بھی ملک کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا اور قومی مفادات پر کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔
اپنے تازہ بیان میں ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے مکمل کنٹرول میں رہنی چاہیے، کیونکہ اگر اس اہم آبی گزرگاہ کا اختیار ایران کے ہاتھ سے نکل گیا تو دشمن طاقتیں اسے سیاسی اور عسکری دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کریں گی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کا تحفظ خطے کے ممالک خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس مقصد کیلئے بیرونی طاقتوں کی موجودگی غیر ضروری ہے۔ ان کے مطابق امریکی، یورپی اور دیگر غیر ملکی افواج کو فوری طور پر خطہ چھوڑ دینا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
محسن رضائی نے امریکی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دشمن ’’خیالی کامیابیوں‘‘ کے خواب دیکھنا بند کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر اور ان کے وزراء حقیقت کے بجائے مفروضوں اور غلط اندازوں پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں اور ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے یہ سخت مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور امریکا ایران تعلقات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ایران مسلسل یہ مؤقف دہرا رہا ہے کہ وہ دباؤ یا دھمکیوں کے سائے میں کسی قسم کی بات چیت قبول نہیں کرے گا۔
