خطے میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان لفظی جنگ اب کھلے عسکری انتباہات تک پہنچ گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب ایران نے سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی آئل ٹینکروں یا توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو پورے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے، جنگی جہاز اور اہم تنصیبات ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں ہوں گے۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے واضح اعلان کیا کہ ایران کی دفاعی اور حملہ آور فورسز مکمل طور پر تیار ہیں، جبکہ جدید میزائل سسٹمز اور خودکش ڈرونز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا یا اس کے اتحادیوں کی کسی بھی “جارحیت” کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جائیں گے۔
دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکا نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ایران کو نئی تجاویز بھجوائی ہیں، جن میں جنگ بندی میں توسیع اور کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر بات کی گئی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق واشنگٹن خطے میں وسیع جنگ سے بچنے کے لیے بیک ڈور ڈپلومیسی استعمال کر رہا ہے، جبکہ پاکستان سمیت چند اہم ممالک اس بحران میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایران جلد امریکی تجاویز کا مثبت جواب دے گا، تاہم انہوں نے سخت لہجے میں خبردار بھی کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا “آپریشن پروجیکٹ فریڈم” کو مزید طاقت اور شدت کے ساتھ آگے بڑھائے گا۔
سیاسی و عسکری ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی تیل منڈی، عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر کی نظریں اب تہران اور واشنگٹن کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں، کیونکہ کسی بھی غلط فیصلے سے پورا خطہ ایک نئی بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
