عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت نے خلیج فارس میں ایک ایرانی کشتی پر حملہ کرتے ہوئے 4 ایرانی شہریوں کو حراست میں لے لیا ہے، جس پر تہران نے شدید ردعمل دیتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق یہ واقعہ اس جزیرے کے قریب پیش آیا جسے مبینہ طور پر امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی شہریوں کی گرفتاری ایک “غیر قانونی اقدام” ہے اور ایران اس معاملے پر خاموش نہیں رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ تہران اپنے شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح سمجھتا ہے اور اس معاملے پر “جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے”۔ ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ ہفتوں میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز کے تنازع اور ایران امریکا تناؤ کے باعث خلیج فارس پہلے ہی حساس صورتحال سے گزر رہی ہے، ایسے میں ایران اور کویت کے درمیان یہ نیا تنازع سفارتی سطح پر مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
ابھی تک کویتی حکام کی جانب سے ایرانی الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر معاملہ جلد سفارتی ذرائع سے حل نہ ہوا تو خطے میں نئی کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔
