سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان آل سعودنےخطےمیں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی راستے کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور تناؤ میں کمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
میڈرڈ میں ہوزے مینوئل البارس کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والے بحران، جس میں ایک جانب ایران اور دوسری طرف امریکا اور اسرائیل شامل ہیں، کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب شروع سے ہی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم رہا ہے۔ ریاض نے جنگ سے قبل واشنگٹن اور تہران کے ساتھ مسلسل رابطے رکھے جبکہ بعد ازاں پاکستان کی ثالثی کوششوں کی بھی حمایت کی۔
سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ مملکت علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر امن کے قیام اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مربوط سفارتی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سابقہ صورتحال بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہرمز کی سلامتی اور بحری آزادانہ نقل و حرکت عالمی معیشت کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔
فیصل بن فرحان نے متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت کی سرزمین اور علاقائی پانیوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اپنے برادر خلیجی ممالک کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی سے کھڑا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ ریاض خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کو قابو میں رکھنے اور معاشی و توانائی بحران سے بچنے کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
