ریاض: سعودی عرب نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ اس نے کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی کی حمایت کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی حکام کی جانب سے یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے اور سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے کردار سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔
سعودی ذرائع نے عرب نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ریاض نے کسی بھی ملک یا اتحاد کو جارحانہ فوجی کارروائیوں کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق مملکت کا مؤقف واضح ہے کہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جائے اور معاملات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔
سعودی ذرائع نے مزید کہا کہ کچھ عناصر مشکوک مقاصد کے تحت مملکت کے مؤقف کو گمراہ کن انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خطے میں مزید بے چینی پیدا کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ہمیشہ علاقائی استحکام، امن اور سیاسی حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔
یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے اور یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا علاقائی ممالک ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری تنازع میں براہِ راست شامل ہو سکتے ہیں یا نہیں۔
سعودی عرب نے ماضی میں بھی متعدد بار اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے کے مسائل کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور علاقائی استحکام میں پوشیدہ ہے، جبکہ جنگ اور تصادم پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر سکتے ہیں۔
