مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سعودی عرب نے اپنے خام تیل کی عالمی منڈیوں تک ترسیل جاری رکھنے کے لیے بحیرہ احمر کے راستے کو متبادل سپلائی روٹ کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق یہ حکمت عملی اس لیے اختیار کی گئی ہے تاکہ خطے میں جنگی صورتحال کے باوجود سعودی تیل کے خریدار ممالک کو بغیر کسی رکاوٹ کے فراہمی جاری رکھی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تیل بردار ٹینکرز سمیت مختلف کارگو جہازوں کی آمد و رفت محدود کیے جانے کے بعد سعودی عرب نے اپنی برآمدی سرگرمیوں کا رخ بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کی طرف موڑ دیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس نے مکمل پابندی عائد نہیں کی بلکہ صرف اسرائیل، امریکہ اور ان کے یورپی اتحادیوں سے منسلک ٹینکرز کی نقل و حرکت کو روکنے کے اقدامات کیے ہیں۔
بلومبرگ نے تیل بردار جہازوں کے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں ماہ کم از کم پانچ بڑے سپر ٹینکرز نے سعودی عرب کی اہم بندرگاہ ینبو سے خام تیل لوڈ کیا۔ ان ٹینکرز کا مقصد عالمی خریداروں تک تیل کی فراہمی کو برقرار رکھنا اور فروری کے مقابلے میں سعودی برآمدات کو بڑھانا ہے۔
سعودی عرب پہلے ہی دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شامل ہے اور اس کی یومیہ برآمدی صلاحیت تقریباً 70 لاکھ بیرل تک سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پانچ سپر ٹینکرز میں مجموعی طور پر تقریباً ایک کروڑ بیرل خام تیل منتقل کیا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے عالمی منڈیوں میں سپلائی کے تسلسل کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ادھر سعودی حکام نے اس بحران کے آغاز سے قبل ہی پاکستان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود پاکستان کے لیے تیل کی فراہمی متاثر نہیں ہوگی۔ سعودی عرب نے واضح کیا تھا کہ اگر ضروری ہوا تو متبادل راستوں، پائپ لائنوں اور بحیرہ احمر کے ذریعے پاکستان سمیت دیگر خریدار ممالک کو تیل فراہم کیا جائے گا۔
گزشتہ بدھ کو سعودی حکام نے اعلان کیا تھا کہ مملکت اپنی برآمدی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے تیل کو پائپ لائنوں کے ذریعے بحیرہ احمر کی بندرگاہوں تک منتقل کر رہی ہے تاکہ خلیج میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اس ماہ سعودی عرب کی یومیہ برآمدات تقریباً 25 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی ہیں جبکہ فروری میں یہ اوسطاً 786 ہزار بیرل یومیہ تھی۔ اس کے علاوہ متعدد تیل بردار جہاز بحیرہ احمر کے راستے خلیج عرب اور دیگر عالمی منڈیوں کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ فروری کے بعد خام تیل کی عالمی قیمتوں میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور قیمت بڑھ کر 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ ایک سال کے دوران نمایاں اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔
اسی بحران کے باعث یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق قطر نے آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت محدود ہونے کے سبب عارضی طور پر اپنی گیس کی پیداوار کم کر دی ہے، جس سے عالمی گیس مارکیٹ میں بھی عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو نہ صرف عالمی توانائی منڈی بلکہ عالمی تجارت، شپنگ اور معیشت پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں
Add A Comment