بھارتی میڈیا نے بنیامین نیتن یاہو کے امریکی ٹی وی پروگرام 60 Minutes کو دیے گئے انٹرویو کے ایک مخصوص حصے کو نمایاں انداز میں نشر کرنا شروع کر دیا ہے، جس میں اسرائیلی وزیراعظم نے پاکستان پر سوشل میڈیا کے ذریعے اسرائیل مخالف مہم چلانے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے CBS News کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ بعض ممالک، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، “بوٹ فارمز” اور جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بظاہر امریکی نظر آنے والے کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس درحقیقت پاکستان سے آپریٹ کیے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول یہ اکاؤنٹس “کسی بیسمنٹ” سے چلائے جا رہے ہیں اور ان کا مقصد امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو کمزور کرنا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ جدید دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اب “ڈیجیٹل وارفیئر” اور سوشل میڈیا بیانیہ بھی عالمی سیاست کا اہم ہتھیار بن چکا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو نہ صرف عسکری بلکہ آن لائن محاذ پر بھی منظم مہمات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا نے نیتن یاہو کے اس بیان کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے مسلسل نشر کیا اور اسے خطے میں “ڈیجیٹل پراپیگنڈا نیٹ ورکس” سے جوڑنے کی کوشش کی۔ متعدد بھارتی ٹی وی چینلز اور تجزیہ کاروں نے اس دعوے کو پاکستان کے خلاف بیانیے کے طور پر پیش کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی معلوماتی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں “بوٹ فارمز” اور جعلی اکاؤنٹس عالمی سیاست، انتخابات اور جنگی بیانیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ایسے الزامات کے ثبوت فراہم کرنا ہمیشہ ایک پیچیدہ اور حساس معاملہ ہوتا ہے۔
تاحال پاکستان کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم کے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی حلقوں میں اس بیان کو خطے کی بڑھتی ہوئی اطلاعاتی اور سیاسی کشیدگی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
