راولپنڈی: پاک فضائیہ کے نائب سربراہ برائے منصوبہ جات ائیر وائس مارشل طارق غازی نے کہا ہے کہ آپریشن “بنیان المرصوص” میں پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے 8 جنگی طیارے مار گرائے، جس کے بعد مقابلہ اب “آٹھ صفر” ہو چکا ہے۔
معرکۂ حق کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ائیر وائس مارشل طارق غازی نے کہا کہ گرائے جانے والے بھارتی طیاروں میں 4 جدید رافیل، ایک سخوئی 30، ایک مگ 29 اور ایک میراج 2000 شامل تھا، جبکہ ایک نہایت مہنگا خودکار فضائی نظام بھی تباہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے پیشہ ورانہ مہارت، جدید حکمتِ عملی اور غیر متزلزل حوصلے کے ذریعے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی فضائی سرحدوں کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معرکۂ حق میں دنیا نے پاکستان کی مجموعی عسکری طاقت کا صرف 10 سے 15 فیصد حصہ دیکھا، جبکہ پاکستان کی اصل قوت اس سے کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ کے شاہین جب دشمن کے مقابلے کے لیے فضا میں بلند ہوئے تو ان کے دلوں میں خوف نہیں بلکہ شہادت کا جذبہ موجزن تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان شہادت کو اعزاز سمجھتی ہیں اور یہی جذبہ دشمن پر برتری کا اصل راز ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو کثیرالجہتی جنگ میں شکست دی، یہ حقیقت صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت کے بچے بھی جانتے ہیں، اگرچہ بھارتی قیادت اسے تسلیم کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
انہوں نے بھارت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی نے دنیا کے سامنے پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت خود خطے میں بدامنی اور دہشت گردی میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور منی پور میں بھارتی مظالم پوری دنیا کے سامنے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پہلگام واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود بھارت آج تک ان سوالات کے جواب نہیں دے سکا جو پاکستان نے اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو بتانا ہوگا کہ مبینہ حملہ آور کون تھے اور کن دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے واقعے کے صرف 15 منٹ بعد مقدمہ درج کر کے دعویٰ کیا کہ حملہ آور سرحد پار سے آئے تھے، اگر ایسا تھا تو بھارتی خفیہ ادارے سینکڑوں کلومیٹر اندر داخل ہونے والوں کو روکنے میں کیوں ناکام رہے؟
